شفاعت سے تمام انبیاء کا انکار
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہموار میدان میں جمع فرمائے گا جہاں پکارنے والا آسانی سے پکار سکے گا اور دیکھنے والا آسانی سے دیکھ سکے گا، سورج قریب آ جائے گا جس کی وجہ سے پریشانی اور تکلیف ناقابلِ برداشت ہو جائے گی، لوگ آپس میں کہیں گے دیکھو کس سخت وقت آن پہنچا ہے، کیا ایسا کوئی نہیں جو تمہارے رب کے حضور سفارش کر سکے (تا کہ حساب کتاب شروع ہو)، پس بعض مشورے کے بعد لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جانا چاہیں گے، لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے، آپ ابو البشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور اپنی روح پھونکی، فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا، آپ ہمارے رب کے حضور ہماری سفارش کریں، آج ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں، حضرت آدم علیہ السلام فرمائیں گے میرا رب اس قدر غصے میں ہے اس سے پہلے نہ تھا اور اس کے بعد کبھی نہ ہوگا، مجھے اللہ تعالیٰ نے (جنت میں) درخت کے قریب جانے سے منع کیا تھا لیکن میں نافرمانی کر بیٹھا، مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے معاف فرما، (یا اللہ) مجھے معاف فرما، تم لوگ کسی اور کے پاس جاؤ، حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ، لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے، اے نوح! آپ اہلِ زمین کی طرف سب سے پہلے رسول تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو (قرآن مجید میں) شکر گزار بندہ کہا، آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس حال میں ہیں، آپ ہمارے رب کے حضور ہماری سفارش کریں، حضرت نوح علیہ السلام کہیں گے آج میرا رب اس قدر غصے میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہ تھا اور نہ اس کے بعد کبھی ہوگا، میں نے اپنی قوم کے لیے بددعا کی (اور وہ ہلاک ہو گئی) اس لیے آج مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے معاف فرما، (یا اللہ) مجھے معاف فرما، تم لوگ میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے، اے ابراہیم! آپ اللہ کے نبی اور اس کے خلیل ہیں، آپ ہمارے رب کے حضور ہماری سفارش کر دیجیے، آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس حال میں پہنچ چکے ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کہیں گے آج میرا رب اس قدر غصے میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہ تھا اور نہ اس کے بعد کبھی ہوگا، میں نے (دنیا میں) تین جھوٹ بولے تھے اس لیے آج مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے معاف فرما، (یا اللہ) مجھے معاف فرما، تم لوگ میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، (شاید وہ تمہاری سفارش کر سکیں) لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے، اے موسیٰ علیہ السلام! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے سارے لوگوں پر فضیلت عطا فرمائی، آپ ہمارے رب کے حضور ہماری سفارش کر دیجیے، آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس حال میں ہیں، حضرت موسیٰ علیہ السلام کہیں گے، آج تو میرا رب اس قدر غصے میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہ تھا اور نہ اس کے بعد کبھی ہوگا، میں نے (دنیا میں) ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا جس کے قتل کرنے کا مجھے حکم نہ تھا اس لیے آج مجھے اپنی جان کی فکر ہے، مجھے معاف فرما، (یا اللہ) مجھے معاف فرما، تم لوگ میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، چنانچہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے، اے عیسیٰ علیہ السلام! آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کا وہ کلام ہیں جو اس نے مریم کی طرف القا کیا اور اس کی روح ہیں، آج ہمارے لیے (اللہ کے حضور) سفارش کر دیجیے، آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کو رہ رہ کر یہ باتیں کہنی پڑ رہی ہیں کہ ہمارا کیا حال ہو رہا ہے، حضرت عیسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے، آج تو میرا رب اس قدر غصے میں ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہ تھا اور نہ اس کے بعد کبھی ہوگا، (اور کسی گناہ کا ذکر نہیں کریں گے) جواب میں فرمائیں گے تم لوگ میرے علاوہ کسی اور کے پاس چلے جاؤ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہو اور عرض کرو، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں، اپنے رب کے حضور ہماری سفارش فرما دیجیے، آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا کیا حال ہو رہا ہے، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) چنانچہ میں (میدانِ حشر سے) چلوں گا اور عرش کے پیچھے پہنچ کر اپنے رب عز و جل کے حضور سجدہ میں گر پڑوں گا، اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی حمد و ثنا کے وہ الفاظ میرے دل میں ڈال دیں گے جو اس سے پہلے کسی کو نہیں بتائے، پھر ارشاد ہوگا، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! سر اٹھائیے اور سوال کیجیے، آپ کو دیا جائے گا، سفارش کریں سفارش قبول کی جائے گی، پس میں سر اٹھاؤں گا اور کہوں گا میری امت میری امت، اے میرے رب! تو ارشاد ہوگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! اپنی امت کے ان لوگوں کو جن پر کوئی حساب نہیں جنت کے داخلی دروازوں میں سے دائیں دروازے سے داخل کرو، پھر دوبارہ سجدہ کروں گا، پھر اللہ تعالیٰ جو چاہے گا اس وقت تک سجدہ میں پڑا رہوں گا، پھر ارشاد ہوگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! سر اٹھائیے اور کہیے تو سنا جائے گا، مانگیے تو دیا جائے گا، سفارش کیجیے تو قبول کی جائے گی، اس وقت میں پھر سفارش کروں گا میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی، ان کو جنت میں داخل کروں گا، پھر واپس آؤں گا اور ارشاد ہوگا اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! سر اٹھائیے، اسی طرح تین اور چار بار سفارش کروں گا (اس کے مطابق) لوگوں کو جہنم سے نکالوں گا، یہاں تک کہ تیسری اور چوتھی بار سفارش کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اب اللہ تعالیٰ فرمائے گا جہنم میں کوئی بھی قرآن کے مطابق یعنی قرآن کے حکم کے مطابق باقی نہیں رہا سوائے ان لوگوں کے جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے، یعنی جن کو ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہنا ہے۔“ (بخاری و مسلم)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں بھی سید الانبیاء ہیں اور آخرت میں بھی سید الانبیاء ہوں گے، قیامت کے روز جب تمام انبیاء شفاعت کرنے سے انکار کر دیں گے تو رحمۃ للعالمین، محسنِ انسانیت، سید الانبیاء، خطیب الانبیاء، شیخ الانبیاء، صاحبِ مقامِ محمود، صاحبِ کوثر احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت فرمائیں گے، آج شفاعت کے اہل صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے، ابتدا میں شفاعت کبریٰ یعنی شفاعتِ عظمیٰ سے ہوگی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعتِ عظمیٰ کے بعد دیگر انبیاء، ملائکہ، شہداء اور اولیاء کی سفارشیں شروع ہوں گی۔
English translation
Abu Hurayrah (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: “On the Day of Resurrection Allah will gather all people, the first and the last, on one level plain where a caller can be heard by all and a viewer can see all. The sun will draw near, and the distress and anguish will become unbearable. People will say to one another, ‘Do you not see the state we have reached? Is there no one who can intercede for you with your Lord, so that the reckoning may begin?’ After some deliberation they will go to Adam and say, ‘You are the father of mankind; Allah created you with His hand, breathed into you of His spirit, and commanded the angels and they prostrated to you. Intercede for us with your Lord; see what distress we are in.’ Adam will say, ‘Today my Lord is angry as He has never been before and never will be again. He forbade me the tree but I disobeyed. Myself, myself! Go to someone else — go to Nuh.’ They will come to Nuh and say, ‘O Nuh, you were the first messenger to the people of the earth, and Allah called you a grateful servant. See our state; intercede for us with your Lord.’ He will say, ‘Today my Lord is angry as never before and never again. I once supplicated against my people. Myself, myself! Go to someone else — go to Ibrahim.’ They will come to Ibrahim and say, ‘You are the Prophet of Allah and His close friend; intercede for us with your Lord; see the state we have reached.’ He will say, ‘Today my Lord is angry as never before and never again. I told three lies. Myself, myself! Go to someone else — go to Musa.’ They will come to Musa and say, ‘O Musa, you are the Messenger of Allah; Allah favoured you above the people with His message and His speech. Intercede for us; see the state we are in.’ He will say, ‘Today my Lord is angry as never before and never again. I killed a soul I was not commanded to kill. Myself, myself! Go to someone else — go to Isa.’ They will come to Isa and say, ‘O Isa, you are the Messenger of Allah, His word which He cast to Maryam, and a spirit from Him; intercede for us today. See how we are compelled to keep repeating our plight.’ Isa will say, ‘Today my Lord is angry as never before and never again’ — and he will mention no sin — ‘Go to someone else — go to Muhammad ﷺ.’ They will come to me and say, ‘O Muhammad, you are the Messenger of Allah and the seal of the prophets; intercede for us with your Lord; see what state we are in.’ So I will set off and, reaching behind the Throne, fall in prostration before my Lord, the Mighty and Majestic. Then Allah will inspire in me such words of praise and glorification as He has taught to no one before. Then it will be said, ‘O Muhammad, raise your head; ask and you shall be given; intercede and your intercession will be accepted.’ I will raise my head and say, ‘My Ummah, my Ummah, O my Lord!’ It will be said, ‘O Muhammad, admit those of your Ummah who have no reckoning through the right-hand gate of Paradise.’ Then I will prostrate again and remain in prostration as long as Allah wills. Then it will be said, ‘O Muhammad, raise your head; say and you will be heard; ask and you will be given; intercede and your intercession will be accepted.’ I will intercede again, a limit will be set for me, and I will admit them to Paradise. Then I will return, and it will be said, ‘O Muhammad, raise your head.’ In this way I will intercede a third and a fourth time, and I will bring people out of the Fire, until — after the third and fourth intercession — Allah will say that none remains in the Fire according to the Qur’an except those whom the Qur’an has confined there: that is, those who must remain in the Fire forever.”
The Prophet Muhammad ﷺ is the master of the prophets in this world and will be so in the Hereafter. On the Day of Resurrection, when all the prophets decline to intercede, it is the Mercy to the Worlds, the benefactor of humanity, the master of the prophets, Ahmad al-Mujtaba, Muhammad al-Mustafa ﷺ, who will intercede; on that Day he alone will be the one entitled to intercede. It will begin with the Great Intercession (al-shafa‘a al-‘uzma), and after his Great Intercession the intercessions of the other prophets, the angels, the martyrs and the friends of Allah will begin.
The Prophet Muhammad ﷺ is the master of the prophets in this world and will be so in the Hereafter. On the Day of Resurrection, when all the prophets decline to intercede, it is the Mercy to the Worlds, the benefactor of humanity, the master of the prophets, Ahmad al-Mujtaba, Muhammad al-Mustafa ﷺ, who will intercede; on that Day he alone will be the one entitled to intercede. It will begin with the Great Intercession (al-shafa‘a al-‘uzma), and after his Great Intercession the intercessions of the other prophets, the angels, the martyrs and the friends of Allah will begin.
View original image
https://hadith.ahadees.com/hadees/715 — Ahadees.com